আইফতোয়াতে ওয়াসওয়াসা সংক্রান্ত প্রশ্নের উত্তর দেওয়া হবে না। ওয়াসওয়াসা মূলত জীন ও শয়তানের প্রভাবে হয়, যার জন্য রুকিয়া করা প্রয়োজন। রুকইয়াহ ফ্রি সেশনের জন্য… এখানে ক্লিক করুন

0 votes
471 views
in হালাল ও হারাম (Halal & Haram) by (1 point)
closed by
গনতান্ত্রিক পদ্ধতির নির্বাচনে ভোট প্রদান কি জায়েয?

........................................................................................................................................................................................................
closed

1 Answer

0 votes
by (805,980 points)
selected by
 
Best answer

ওয়া আলাইকুমুস-সালাম ওয়া রাহমাতুল্লাহি ওয়া বারাকাতুহু। 
বিসমিল্লাহির রাহমানির রাহিম।
জবাবঃ-
আলহামদুলিল্লাহ!
নির্বাচনে যোগ্য ও আমানতদার প্রার্থীকে ভোট দেওয়া যাবে।  

গনতান্ত্রিক প্রক্রিয়ায় ভোট প্রদান করার বিষয়টা যেহেতু বিতর্কিত ও মতানৈক্য পূর্ণ। সেই বিবেচনায় উপমহাদেশের কয়েকটি দারুল ইফতার ফাতাওয়া সংযুক্ত করা হল,


গনতান্ত্রিক প্রক্রিয়ায় ভোট দেওয়ার শরয়ী বিধান সম্পর্কে দারুল উলূম দেওবন্দ (ভারত) এর ঐতিহাসিক ফাতাওয়াটি নিম্নে প্রদত্ত হল,
ووٹ کی شرعی حیثیت کیا ہے
سوال:ہندوستان میں جمہوری نظام نافذ ہے اس کے تحت اس جمہوری نظام کو چلانے کے لئے کوئی بھی ہندوستانی انتخابی الیکشن لڑسکتا ہے ۔الیکشن لڑنے والے افراد مسلمان بھی ہوسکتا ہے اور غیر مسلم بھی ۔ایسے موقعہ پر تمام امید وار اپنی حقانیت کے وعدے کرتے ،لیکن عوام جانتی ہے کہ یہ انتخابی پرو پیگنڈہ یہ تمام امید وار جھوٹ بولتے ہیں تو برئے مہربانی یہ بتائیں۔ (1) کیا مسلمانوں کو الیکشن میں کھڑا ہونا چاہئے؟ (2) کیا مسلمانوں کو ووٹ ڈالنا چا ہئے؟ (3) ووٹ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ برائے مہربانی شریعت مطہرہ کی روشنی میں جوب دیں ۔

الجواب باسم ملهم الصواب:
مسلمان کے لیے الیکشن میں کھڑا ہونا شرعاً ناجائز نہیں ہے۔ قوم وملت کی خدمت کرنے کی ترغیب خود احادیث کثیرہ میںآ ئی ہے۔ البتہ مسلمان لیڈر کو چاہیے کہ وہ الیکشن میں کھڑے ہوکر جائز وناجائز کی پرواہ کیے بغیر عمل نہ کرے، جھوٹ فریب دھوکہ اور جھوٹے وعدے سے کلی اجتناب کرے، محض مالی منفعت، دنیاوی لذت،نیز جاہ طلبی کے جذبہ سے کھڑا نہ ہو، کسی سے دب کر غیر اسلامی طریقہ کو اختیار نہ کرے، فرقہ پرست عناصر اور بدکردار لوگوں سے گٹھ جوڑ نہ رکھے، اس کا مقصد صرف اور صرف قوم وملت کی خدمت کرنا، مظلوموں کی امداد کرنا، ناجائز مقدمات میں پھنسے لوگوں کو باعزت بری کرانا ہو وغیرہ۔ (۲) (۳) ووٹ کی شرعی حیثیت کم ازکم شہادت کی ہے، اس کو محض سیاسی ہارجیت کا ذریعہ قرار دینا سخت نادانی ہے، قرآن وسنت کی رو سے واضح ہے کہ نااہل، ظالم، فاسق اورغلط آدمی کو ووٹ دینا گناہِ عظیم ہے، اسی طرح ایک اچھے نیک اور قابل آدمی کو ووٹ دینا ثواب بلکہ ایک فریضہ شرعی ہے، قرآن کریم میں جیسے جھوٹی شہادت کو حرام قرار دیا ہے اسی طرح سچی شہادت کو واجب اور لازم فرمایا ہے، ارشاد باری ہے کُونُوا قَوَّامِینَ لِلَّہِ شُہَدَاء َ بِالْقِسْطِ اور دوسری جگہ ہے کُونُوا قَوَّامِینَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاء َ لِلَّہِ ان دونوں آیتوں میں مسلمانوں پر فرض کیا کہ سچی شہادت سے جان نہ چرائیں، اللہ کے لیے ادائیگی شہادت کے لیے کھڑے ہوجائیں، تیسری جگہ سورہٴ طلاق میں ارشاد ہے وَأَقِیمُوا الشَّہَادَةَ لِلَّہِ یعنی اللہ کے لیے سچی شہادت قائم کرو، ایک آیت میں ارشاد فرمایا کہ سچی شہادت کا چھپانا حرام اور گناہ ہے، ارشاد ہے: وَلَا تَکْتُمُوا الشَّہَادَةَ وَمَنْ یَکْتُمْہَا فَإِنَّہُ آَثِمٌ قَلْبُہُ یعنی شہادت کو نہ چھپاوٴ اور جو چھپائے گا اسکا دل گنہ گار ہے۔ حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں کو ووٹ ضرور ڈالنا چاہیے، البتہ ووٹ ڈالنے جس امیدوار کے حق میں ووٹ ڈال رہا ہے اس کے حق میں گویا یہ خود ہی گواہی دے رہا ہے کہ یہ امیدوار میرے علم کے مطابق سب سے زیادہ مستحق اور دیانت دار ہے، اس لیے چند امور اس کو ملحوظ رکھنے چاہئیں: (۱) ووٹ ڈالنے میں احتیاط سے کام لے، غلط جگہ مہر وغیرہ نہ لگے، اس کا خیال رکھے ورنہ اس کا ووٹ ضائع ہوجائے گا جو کہ بڑا نقصان ہے۔ ۲) باہم مشورے سے خوب سوچ سمجھ کر ووٹ دے، محض اپنے تعلقات یا غیرشرعی دباوٴ سے متأثر ہوکر ہرگز ووٹ نہ دے۔ ۳) جو امیدوار اس کے علم کے مطابق ووٹ کا زیادہ مستحق ہے دیانةً اسی کو اپنا ووٹ دے۔ ۴) جس امیدوار سے نقصان پہنچنے کا غالب اندیشہ ہو اس کو ہرگز ووٹ نہ دے۔ ۵) اگر تمام امیدواروں کے حالات یکساں ہوں تو پھر جس سے زیادہ فائدہ کی امید اور کم نقصان کا اندیشہ ہو اس کو ووٹ دے۔ ۶) روپیہ یا کوئی مال لے کر کسی کو ووٹ نہ دے یہ بدترین رشوت اور حرام فعل ہے۔ ۷) ووٹ کی حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو اس سے مندرجہ ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں:واللہ تعالیٰ اعلم
جواب نمبر: 43094
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

দারুল উলূম বিন্নুরী টাউন মাদরাসার ফাতাওয়া 
ووٹ کی شرعی حیثیت
سوال
جمہوری نظام میں ووٹ کے استعمال کا شریعت میں کوئی حیثیت ہے یا نہیں ؟ پھر اس کو خاص فرد کو دینا ضروری ہے یا آپ کی مرضی ہے جس کو بھی اچھا سمجھے اس کو دیں ؟

جواب
ووٹ کی شرعی حیثیت شہادت ،وکالت،سفارش اور امانت  کی ہے ۔یعنی ایک ووٹر جب کسی کو ووٹ دیتا ہے تو گویا اس کے دین ،اخلاق ،اصابتِ رائے ،صلاحیت اور صالحیت کی شہادت دیتا ہے ،اسی کو اپنے سیاسی معاملات کا وکیل بناتا ہے،اور اسی کے انتخاب کی سفارش کرکےقومی امانت کے بار امانت کو منتخب نمائندہ کے سپرد کرتا ہے۔

ان چاروں حیثیتوں میں نیک ،صالح ،ملک و ملت کے خیر خواہ کو ہی ووٹ دینا چاہیے ،اور  مذکورہ صفات کے حامل کو ووٹ دیناشہادت صحیحہ ،اچھی سفارش ، جائز وکالت اور امانت داری کی وجہ سے  موجب ثواب ہے ،اور اسي طرح  نااہل غیر متدین کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت ،بری شفاعت ، ناجائز وکالت اور خیانت کی وجہ سے موجب گناہ بھی ہے ۔

پس  مذکورہ صفات کے حاملوں کو ہی ووٹ دیا جائے ،اور اگر امیدواروں میں سب ہی نااہل ہیں تو جس کو شر میں دوسروں کی بنسبت کم سمجھے اسی کو ووٹ دے ،اور نہ دینے میں بھی مضائقہ نہیں ہے۔

جواہر الفتاوی میں ہے :
’’حضرت مفتی اعظم مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر معارف القرآن اور جواہر الفقہ میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے :کہ شرعی اعتبار سے ووٹ دینا در اصل اس بات کی شہادت دینا ہوتا ہے کہ جس کو ووٹ دیا جارہا ہے وہ اس کی نمائندگی کے لیے اہل ہے اس کے اندر تمام صفات و اہلیت کی تمام شرائط لازمی موجود ہیں ،نیز ووٹ دینا ایک شرعی امانت داری ذمہ داری کو ادا کرنا ہوتا ہے ،ووٹ دینے والا ووٹ دے کر قومی امانت کے بار امانت کو منتخب نمائندہ کے سپرد کرتا ہے،تیسرے اس میں وکالت بھی ہوتی ہے کہ ووٹ دینے والا شخص ،نمائندہ کو اپنا وکیل بنا دیتا ہے کہ وہ جو کچھ کرے گا اس کے گناہ و ثواب  میں ووٹ دینے والا بھی شریک ہوگا ۔‘‘ (جواہر الفتاوی،ج:3،ص:350،اسلامی کتب خانہ )


(আল্লাহ-ই ভালো জানেন)

--------------------------------
মুফতী ইমদাদুল হক
ইফতা বিভাগ
Islamic Online Madrasah(IOM)

আই ফতোয়া  ওয়েবসাইট বাংলাদেশের অন্যতম একটি নির্ভরযোগ্য ফতোয়া বিষয়ক সাইট। যেটি IOM এর ইফতা বিভাগ দ্বারা পরিচালিত।  যেকোন প্রশ্ন করার আগে আপনার প্রশ্নটি সার্চ বক্সে লিখে সার্চ করে দেখুন। উত্তর না পেলে প্রশ্ন করতে পারেন। আপনি প্রতিমাসে সর্বোচ্চ ৪ টি প্রশ্ন করতে পারবেন। এই প্রশ্ন ও উত্তরগুলো আমাদের ফেসবুকেও শেয়ার করা হবে। তাই প্রশ্ন করার সময় সুন্দর ও সাবলীল ভাষা ব্যবহার করুন।

বি.দ্র: প্রশ্ন করা ও ইলম অর্জনের সবচেয়ে ভালো মাধ্যম হলো সরাসরি মুফতি সাহেবের কাছে গিয়ে প্রশ্ন করা যেখানে প্রশ্নকারীর প্রশ্ন বিস্তারিত জানার ও বোঝার সুযোগ থাকে। যাদের এই ধরণের সুযোগ কম তাদের জন্য এই সাইট। প্রশ্নকারীর প্রশ্নের অস্পষ্টতার কারনে ও কিছু বিষয়ে কোরআন ও হাদীসের একাধিক বর্ণনার কারনে অনেক সময় কিছু উত্তরে ভিন্নতা আসতে পারে। তাই কোনো বড় সিদ্ধান্ত এই সাইটের উপর ভিত্তি করে না নিয়ে বরং সরাসরি স্থানীয় মুফতি সাহেবদের সাথে যোগাযোগ করতে হবে।

Related questions

...